Header Ads

Breaking News
recent

جناب وہ “کون“ نہیں تھی ہم کون ہیں؟

Image may contain: 3 people, people smiling, people standing and indoor

فاطمہ صغریٰ مر گئی۔


ہائیں وہ کون تھی؟
جناب وہ “کون“ نہیں تھی ہم کون ہیں؟
یہ وہی فاطمہ صغرایٰ تھی جس نے چودہ سال کی عمر میں دنیا کے سب سے بڑے سامراج کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یوں للکارا کہ اس کی کڑک آج بھی سُنائی دیتی ہے۔
قیام پاکستان کی تحریک اپنے آخری مرحلے میں تھی کہ پاکستان مسلم لیگ نے سول سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا۔ کمشنر لوئیس نے فرعون کے انداز میں پریس کو بیان دیا۔
سیکریٹریٹ کے سامنے کی سڑک پر پاکستان مسلم لیگ کو اس دن تک تو احتجاج نہیں کرنے دوں گا جب تک سیکریٹریٹ پر یونین جیک لہرا رہا ہے۔
فاطمہ مسلم لیگی جلوس میں شامل تھی اور فرعون کا بیان اس نے بھی سن رکھا تھا جلوس والوں نے تو دفعہ ایک سو چوالیس توڑنا تھی لیکن چودہ سالہ فاطمہ نے فرعون کا غرور توڑنا تھا۔ کمزور سی فاطمہ نے دس فٹ اونچا پھاٹک پھلانگا ایک سنتری اس کی جانب بڑھا تو فاطمہ نے اپنی انگلیاں اس کی آنکھوں میں کھبو دیں ابھی وہ اور اس کے ساتھی سنبھلے بھی نہ تھے فاطمہ ڈرین پائپ سے لٹکتی چھت پر جا پہنچی یونین جیک کو اتار پھینکا اور سبز ہلالی پرچم لہرا دیا
چشم فلک نے وہ منظر دیکھا کہ سیکریٹریٹ کے دالان میں کمشنر کھڑا منظر دیکھ رہا تھا سیکریٹریٹ کے پول پر پاکستان مسلم لیگ کا پرچم لہرا رہا تھا اور پھاٹک کے باہر
پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ کا نعرہ گونج رہا تھا
اور دنیا کے سب سے بڑے سامراج کا پرچم چودہ سالہ فاطمہ صغری کے جوتے کے نیچے پڑا تھا۔
فاطمہ گرفتار ہوئی جیل گئی لیکن فاطمہ ہمیں بتا گئی کہ وہ “کون“ نہیں تھی ہم کون ہیں؟
آج وہی فاطمہ صغرایٰ فوت ہو گئی 

No comments:

Powered by Blogger.