How Banks Make Money From Nothing-How Bank Make Money From Loan
بینکوں کا معاشروں پر کنٹرول ۔۔۔۔ ! بینک کیسے کسی معاشرے کو کنٹرول کر لیتے ہیں؟ آخر اللہ نے سود کے خلاف کیوں اعلان جنگ کر رکھا ہے؟ کیا واقعی بینک جمع شدہ رقوم سے کاروبار کرتے ہیں؟ آئیے آج اس کو مختصراً سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گوکہ یہ موضوع بے حد وسیع اور تفصیل طلب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ایسے معاشرے کا تصور کیجیے جو پوری دنیا سے الگ تھلگ ہے۔ وہاں ایک شخص دکان کھول کر بیٹھ جاتا ہے کہ یہ بینک ہے یہ لوگوں کی رقم جمع کرتا ہے اور قرض بھی دیتا ہے۔ جمع شدہ رقم پر سود بھی دیتا ہے ۔۔۔۔۔ اب ایک شخص آکر سو روپے جمع کراتا ہے تو بینک اسکا کھاتہ کھول کر اسکے پیسے اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ اس شخص کو چیک جاری کرتا ہے کہ آپ کی رقم محفوظ ہوگئی ہے جس پر آپ کو ماہوار ایک روپیہ سود بھی ملے گا اور ان چیکوں سے آپ اپنا لین دین بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ غرض ہر طرح سے آپ کو سہولت ہوگئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شخص جاتا ہے تو ایک اور شخص آتا ہے کہ " میں نے رقم جمع نہیں کرانی بلکہ مجھے سو روپے قرض چاہئے" ۔۔۔۔۔۔ بینک کہتا ہے کہ "ٹھیک ہے ہمارے پاس اتنی رقم موجود ہے ہم آپ کو قرض دیتے ہیں اسکے بدلے میں آپ ہمیں کم از کم دو سو روپے کی ضمانت فراہم کریں جو زمین، گھر یا کسی اور اثاثے کی شکل میں ہو اور ہم آپ سے اس پر دو روپے ماہانہ سود لیں گے"۔۔۔۔۔۔۔ وہ شخص راضی ہو جاتا ہے تب بینک اسکو قرض جاری کرتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ پیشکش کرتا ہے کہ بھائی اتنی بڑی رقم کیا آپ گھر میں رکھیں گے یا ساتھ لے کر پھریں گے؟؟ ہم آپ کا اکاونٹ کھلواتے ہیں اور آپکی رقم اپنے پاس جمع کرواتے ہیں آپ ہم سے چیک لے جائیں۔ اپ نے جو لین دین کرنا ہے اس چیک سے کیجیے۔ وہ راضی ہو جاتا ہے اور اس بینک میں ایک اور کھاتہ کھل جاتا ہے۔ اصل رقم بینک میں ہی پڑی رہتی ہے اور ایک شخص مقروض ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شخص باہر جا کر بتاتا ہے کہ بینک قرضے دے رہا ہے تو اور بہت سے لوگ آجاتے ہیں جو انہی شرائط پر بینک سے قرض حاصل کر تے ہیں لیکن رقم لینے کے بجائے اکاونٹ کھول کر چیک لینا پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اب اصل میں ہوا کیا؟ ۔۔۔۔۔۔۔ اس کو ذرا سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔۔! بینک نے ایک شخص سے سو روپے حاصل کیے اور ان پر ایک روپیہ سود جاری کیا لیکن انہی سو روپے کے بھروسے پر آگے پندرہ یا بیس افراد کو قرض جاری کیا جن میں سے ہر ایک سے دو دو روپے کی شرح سے سود وصول کر رہا ہے جو ماہوار تیس یا چالیس روپے بنتے ہیں۔ پھر ان کے بھی اکاؤنٹ کھول کر آدھے سود کی شکل میں انہی کو واپس کر کے بھی بینک پندرہ سے بیس روپے ماہانہ بچا رہا ہے۔ یہی بینک کی کمائی ہوتی ہے۔ یہ بلکل جھوٹ ہے کہ بینک کہیں ان پیسوں سے کاروبار کرتے ہیں۔ اس معاشرے کے سارے لوگ جو قرض لے چکے ہیں اپنا کچھ نہ کچھ گروی رکھوا چکے ہیں نتیجے میں اس معاشرے کے اکثر اثاثے بینک کے پاس گروی رکھے ہیں اور ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں بینک انکو ضبط کر لیتا ہے۔۔۔ معاشرے میں وسائل اتنے ہی ہیں لیکن بینک نے اپنے چیک جاری کرکے زر کی مقدار بڑھا دی جس سے پورے معاشرے میں لوگوں کی قوت خرید مصنوعی طور پر بڑھ گئی ہے جس سے ایک زبردست مہنگائی اور افراط زر نے جنم لیا۔۔۔۔۔۔ جو لوگ اس بینک کے قرضوں پر کاروبار کر رہے ہیں وہ مسلسل بینک کے رحم کرم پر ہیں اور بینک ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان سے جو چاہے منوا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے بینکوں کا خوفناک اور مکروہ چہرہ۔۔۔۔ یہ ایک سادہ لیکن جامع مثال ہے جس سے بینکنگ سسٹم کو سمجھا جا سکتا ہے۔ تھوڑی رقم پر فراڈ کے ذریعے زیادہ قرضے جاری کرنے کو "فریکشنل ریزرو بینکنگ" کہتے ہیں جو پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک کے بینکوں کی مشترکہ پالیسی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ان بینکوں کے آخری سرے پر صہیونی بینکار بیٹھے ہیں جنہوں نے اپنے اس شیطانی سسٹم کے ذریعے امریکہ سمیت دنیا کے تمام بڑے ممالک اور کاروباری اداروں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ واللہ ۔۔ دنیا میں برپا فساد، جنگیں، بیماریاں، ماحولیاتی آلودگی، موسموں کا خوفناک تغیر، معاشروں میں بڑھتی فحاشی، گلوبل وارمنگ، حتی کہ سورج کی روشنی یا اوزون کی تہہ تک کو تباہ کرنے کے پیچھے بھی یہ بینکار ہی ہیں جو نہایت بے رحمی سے پوری دنیا میں اپنی جارحانہ پالیسیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ بینکنگ کی مدد سے زر کو کنٹرول کر لینے کے بعد انہوں نے بڑی بڑی صنعتیں قائم کیں، میڈیا پر کنٹرول حاصل کیا۔ انہی بینکرز نے مغرب میں "وومنز لب " کے نام پر اپنی فیکٹریوں میں ورکرز کی ضرورت کو پورا کرنےکے لیے عورت کو گھر سے باہر نکالا، فحاشی پھیلائی اور فیملی سسٹم کو تباہ کر دیا۔ بے شمار صنعتوں اور تعیشات کو فروغ دے کر ماحول کو آلودہ کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان سب بینکرز کی رگ جاں "سود" میں ہے ۔۔۔۔۔۔!! مجھے ان علماء سے شدید نفرت ہے جو " اسلامی بینکنگ " کے نام پر سود کے اس کاروبار کو حلال کررہے ہیں۔ میں انکو چیلنج کرتا ہوں کہ یہ مجھے وہ کاروباردکھا دیں جن سے میزان بینک یا اس ٹائپ کے دوسرے بینک پیسے کما کر لوگوں کو منافع دیتے ہیں؟؟؟؟ میں یہ بھی کہتا رہا ہوں کہ اگر اسلامی بینک ہوسکتا ہے تو اسلامی شراب خانہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ بہرحال سود شراب پینے سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ یہاں سب کچھ لکھنا ممکن نہیں لیکن اوپر پیش کی گئی مثال سے آپ بہت کچھ سمجھ سکتے ہیں۔ امید ہے آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ جس سود کی تباہی کا مشاہدہ ہم آج کر رہے ہیں اس کے خلاف اللہ تعالی نے چودہ سو سال پہلے کیوں اعلان جنگ کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!! (نوٹ اس شیطانی نظام میں چونکہ کم رقم پر زیادہ قرضے جاری کیے جاتے ہیں اس لیے جب زیادہ لوگ رقم وصول کرنے اچانک آجائیں تو بینک رقم کی عدم موجودگی کی وجہ سے دیوالیہ بھی ہو جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے جو امریکن بینک مسلسل دیوالیہ ہو رہے تھے اسکی وجہ یہی تھی) نوٹ ۔۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف پاکستان کو قرضے جاری کرنے کے لیے کیا کیا شرائط عائد کرتے ہیں۔ آپ جان لیں تو ششدر رہ جائیں۔ جن کے پاس نواز شریف تقریباً پاکستان گروی رکھوا چکا ہے۔۔


I have read your article, it is very informative and helpful for me.I admire the valuable information you offer in your articles. Thanks for posting it..
ReplyDeleteGovt jobs in Multan for female